اسلام میں علم کی اشاعت کی اہمیت
اسلام نے علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اسے دوسروں تک پہنچانے کو بھی نہایت اہم ذمہ داری قرار دیا ہے۔ علم ایک امانت ہے، اس لیے اہلِ علم پر لازم ہے کہ وہ اسے لوگوں تک پہنچائیں اور بلاوجہ نہ چھپائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ علم سے عہد لیا ہے کہ وہ حق کو واضح کریں اور اسے پوشیدہ نہ رکھیں۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے بھی بار بار امت کو علم کی تبلیغ کی ترغیب دی اور فرمایا: "میری طرف سے ایک آیت ہی کیوں نہ ہو، لوگوں تک پہنچا دو۔" آپ ﷺ خود بھی ہر موقع پر لوگوں کو دین کی تعلیم دیتے اور علم عام کرتے تھے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اسی تعلیم پر عمل کیا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے حاصل کردہ علم کو دنیا کے مختلف علاقوں تک پہنچایا اور دین کی تعلیم عام کی۔ بعد میں آنے والے سلف صالحین اور علماء نے بھی علم کی اشاعت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا اور اسے علم کی بقا اور امت کی اصلاح کا بہترین ذریعہ قرار دیا۔
علم کی اشاعت کے اہم فضائل یہ ہیں:
اس سے عظیم اجر اور مسلسل ثواب حاصل ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام مخلوقات معلمِ خیر کے لیے دعا کرتی ہیں۔
لوگوں کی دینی رہنمائی اور بھلائی کا ذریعہ بنتا ہے۔
قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کو بہترین انسان قرار دیا گیا ہے۔
علم محفوظ رہتا ہے، ترقی کرتا ہے اور آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتا ہے۔
یہ انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت اور طریقہ ہے۔
اس کے برعکس اسلام نے بلاوجہ علم چھپانے سے سختی سے منع کیا ہے۔ قرآن و حدیث میں ایسے لوگوں کے لیے سخت وعید آئی ہے، کیونکہ وہ لوگوں کو ہدایت سے محروم کرتے اور اللہ کی امانت میں خیانت کرتے ہیں۔
البتہ اگر کسی خاص علم یا بات کو عام کرنے سے فتنے، نقصان یا کسی بڑی مفسدت کا اندیشہ ہو تو حکمت کے پیشِ نظر اسے وقتی طور پر روکنا یا مؤخر کرنا جائز ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ایک خاص بشارت عام کرنے سے منع فرمایا تھا تاکہ لوگ عمل میں سستی نہ کرنے لگیں۔
خلاصہ:اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ علم اللہ کی امانت ہے۔ اسے اخلاص، حکمت اور صحیح انداز سے لوگوں تک پہنچانا ہر اہلِ علم کی ذمہ داری ہے۔ یہی انبیاء، صحابہ اور سلف صالحین کا طریقہ ہے، جبکہ بلاوجہ علم چھپانا ایک سنگین گناہ ہے۔
مصطفیٰ اجمل
iPlus TV